کسان کی دانائی

Faisal Ashfaq

Updated on:

پُرانے وقتوں کی بات ہے کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ایک دن گاؤں سے گزرتے ہوئے اُس نے ایک کسان کو کام کرتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے اُس کسان سے پوچھا تم اس کھیت سے کتنا کما لیتے ہو؟۔

کسان نے جواب دیا چار آنے کما لیتا ہوں۔ چار آنے میں کس طرح گزر بسر کرتے ہو؟ تو کسان نے جواب دیا۔ اِک آنے قرض دیتا ہوں، ایک آنا کنویں میں ڈالتا ہوں، ایک آنا قرض اُتارتا ہوں۔ اور ایک آنا اپنے اور بیوی پر خرچ کرتا ہوں۔

بادشاہ نے بڑی حیرانی سے پوچھا یہ قرض دینا اور اُتارنا اور کنویں میں ڈالنے کا مطلب کیا ہے؟ کسان بڑی دانائی سے جواب دیتا ہے ’’ایک آنا قرض اُتارنے کا مطلب اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں، ایک آنا قرض دینے کا مطلب اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہوں۔

اور کنویں میں ڈالنے سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں‘‘۔ بادشاہ کسان کی دانائی پر بہت خوش ہوا۔ اور اُس نے کسان سے کہا جب تک میرا چہرہ سو بار نہ دیکھ لو کسی کو اس بات کا راز نہ بتانا۔

اگلے روز بادشاہ اپنے محل میں تمام وزیروں سے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے اُن سے یہ سوال کرتا ہے، کوئی بھی اس بات کا جواب نہیں دیتا مگر بادشاہ کا وزیر اِک دن کی مہلت لے کر اُسی گاؤں کی طرف چل پڑتا ہے۔

وزیر کسان سے اُس بات کا جواب پوچھتا ہے تو کسان اُس کو بادشاہ کی شرط کے بارے میں بتاتا ہے۔ تو کسان اُس وزیر سے کہتا ہے۔ ’’ مجھے سو اشرفیاں دو میں ساری بات تمہیں بتا دوں گا‘‘ وزیر اگلے روز بادشاہ کے سامنے اُس بات کا جواب دے دیتا ہے ، بادشاہ آگ بگولا ہو کر کسان کو اپنے پاس بلاتا ہے اور کسان سے اُس شرط کا ذکر کرتا ہے تو کسان نے کہا ’’میں نے سو اشرفیوں پر آپکا چہرہ دیکھ کر ہی وہ بات وزیر کو بتائی‘‘ محل میں بیٹھے سارے وزیر کسان کی دانائی پر دنگ رہ گئے۔

بادشاہ نے کسان کی اس دانائی کو دیکھتے ہوئے کسان کو اپنا وزیر مقرر کر لیا اور سارے فیصلے اور مشورے اُس سے کرنے لگا۔

Leave a Comment